ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل : آر این ایس کالج کے 13 طلبہ کے تعلیمی مستقبل پر منڈلا رہا ہے خطرہ 

بھٹکل : آر این ایس کالج کے 13 طلبہ کے تعلیمی مستقبل پر منڈلا رہا ہے خطرہ 

Sat, 09 Apr 2022 12:18:46    S.O. News Service

بھٹکل ،9 ؍ اپریل (ایس او نیوز) مرڈیشور میں واقع آر این شیٹی فرسٹ گریڈ کالج  میں کرناٹکا یونیورسٹی دھارواڑ کے نصاب کے تحت  تعلیمی سال 2021-22 میں شروع کیے گئے بی بی اے اور بی سی اے کورس میں داخلہ لینے والے 13 طلبہ کے تعلیمی مستقبل پر خطرہ منڈلا رہا ہے کیونکہ ابھی تک کالج کو یونیورسٹی کی طرف سے ان کورسس کے لئے اجازت نامہ نہیں ملا ہے جس کی وجہ سے یہ طلبہ فرسٹ سیمسٹر کا امتحان دینے کے اہل نہیں رہے ہیں ۔
    
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق آر این ایس کالج کے بی بی اے میں 10 اور بی سی اے میں 3 طلبہ نے امسال داخلہ لیا تھا ۔ اب تعلیمی سال اور نصاب پورا ہوچکا ہے اور کرناٹکا یونیورسٹی نے امتحان کا ٹائم ٹیبل بھی جاری کیا جس کے مطابق 11 اپریل سے امتحان شروع ہو رہا ہے ۔ لیکن آر این ایس کالج  کو اس کورس کی منظوری نہِیں ملی ہے اس لئے ان طلبہ کو ہال ٹکٹ جاری نہیں کیے گئے ہیں جس سے طلبہ پریشان ہوگئے ہیں ۔
    
طلبہ کا کہتے ہیں کہ " ہمیں ہال ٹکٹ بھی نہیں ملا ہے اور نہ ہی ہمار او ایم آر فارم پُر کیا گیا ہے ۔ پرنسپال سے پوچھنے پر ہمیں درخواست دینے کے لئے کہا جاتا ہے ۔ پھر کبھی کہا جاتا ہے کہ ہمارا تعلیمی ادارہ بنگلورو یونیورسٹی کے تحت آتا ہے اس لئے وہاں سے امتحان دیا جا سکے گا ۔ لیکن بنگلورو یونیورسٹی کا نصاب اور کرناٹکا یونیورسٹی کا نصاب الگ الگ ہے ۔ ہم نے کرناٹکا یونیورسٹی کے نصاب کے تحت پڑھائی اور امتحان کی تیاری کی ہے ۔ اگر بنگلورو یونیورسٹی کے تحت ہم امتحان دیں گے تو پھر ہمارا کامیاب ہونا ممکن نہیں ہے ۔"
    
آر این ایس فرسٹ گریڈ کالج کے پرنسپال  کی دلیل یہ ہے کہ " یہ بات درست ہے کہ کالج انتظامیہ نے اجازت حاصل ہوئے بغیر ہی یہ کورسس شروع کیے ہیں ۔ کورونا کی وجہ سے یونیورسٹی سنڈیکیٹ کی میٹنگ منعقد نہیں ہوئی تھی اس لئے ہمیں اجازت نہیں مل سکی ۔ طلبہ امتحان دینے سے محروم نہ ہونے پائیں اس لئے ہم لوگ اجازت لینے کی پوری کوشش کر رہے ہیں ۔"
    
ادھر کرناٹکا یونیورسٹی کے رجسٹرار ناگراج ایچ نے بتایا کہ آر این شیٹی فرسٹ گریڈ کالج کے بی بی اے اور بی سی اے کلاسس شروع کرنے کی تجویز حکومت کو بھیجی گئی ہے ۔ سرکاری طور پر منظوری ملنے کے بعد ہی اگلے اقدام پر غور کیا جا سکے گا ۔


Share: